<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>
<rss version="2.0"
	xmlns:content="http://purl.org/rss/1.0/modules/content/"
	xmlns:wfw="http://wellformedweb.org/CommentAPI/"
	xmlns:dc="http://purl.org/dc/elements/1.1/"
	xmlns:atom="http://www.w3.org/2005/Atom"
	xmlns:sy="http://purl.org/rss/1.0/modules/syndication/"
	xmlns:slash="http://purl.org/rss/1.0/modules/slash/"
	>

<channel>
	<title>Iqrapk.com</title>
	<atom:link href="http://iqrapk.com/?feed=rss2" rel="self" type="application/rss+xml" />
	<link>http://iqrapk.com</link>
	<description>Health and beauty Magazine</description>
	<lastBuildDate>Mon, 30 Aug 2010 14:47:27 +0000</lastBuildDate>
	<language>en</language>
	<sy:updatePeriod>hourly</sy:updatePeriod>
	<sy:updateFrequency>1</sy:updateFrequency>
	<generator>http://wordpress.org/?v=3.0</generator>
		<item>
		<title>بغیر عزر کے روزہ ترک کرنا</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=417</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=417#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 06:04:40 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ماہ رمضان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=417</guid>
		<description><![CDATA[بغیر عزر کے روزہ ترک کرنا رمضان المبارک اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس پر اسلامی عمارت قائم ہے ، اللہ سبحانہ وتعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ رمضان کے روزے جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیے گئے تھے امت اسلامیہ پر بھی فرض کيے گئے ہیں اس کا ذکر [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>بغیر عزر کے روزہ ترک کرنا</strong></p>
<p><a rel="attachment wp-att-421" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=421"><img class="alignright size-full wp-image-421" title="ramadan_kareem" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/ramadan_kareem.jpg" alt="" width="320" height="317" /></a>رمضان المبارک اسلام کے ارکان میں سے ایک رکن ہے جس پر اسلامی عمارت قائم ہے ، اللہ  سبحانہ وتعالی نے ہمیں یہ بتایا ہے کہ رمضان کے روزے جس طرح پہلی امتوں پر فرض کیے  گئے تھے امت اسلامیہ پر بھی فرض کيے گئے ہیں اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالی نے  فرمایا :</p>
<p>{ اے ایمان والو تم پرروزے رکھنا فرض کیا گیا ہے جس طرح تم سے پہلے لوگوں پرفرض  کیے گئے تھے تا کہ تم تقوی اختیار کرو } البقرۃ ( 183 ) ۔</p>
<p>اورایک مقام پر کچھ اس طرح فرمایا :</p>
<p>{ ماہ رمضان وہ ہے جس میں قرآن اتارا گیا جو لوگوں کو ہدایت کرنے والا ہے اورجس  میں ھدایت اورحق وباطل کی تمیز کی نشانیاں ہیں ، تم میں جوشخص اس مہنیہ کو پائے اسے  روزہ رکھنا چاہیۓ ، ہاں جو بیمار ہویا مسافر ہواسے دوسرے دنوں میں گنتی پوری کرنی  چاہیے ، اللہ تعالی کا تمہارے ساتھ آسانی کرنے کا ارادہ ہے سختی کا نہیں ، وہ چاہتا  ہے کہ تم گنتی پوری کرلو اوراللہ تعالی کی دی ہوئي ہدایت پر اس کی بڑائياں بیان کرو  اوراس کا شکر کرو } البقرۃ ( 185 ) ۔</p>
<p>حدیث میں بھی نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے :</p>
<p>ابن عمررضي اللہ تعالی عنہما بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>( اسلام کی بنیاد پانچ چيزوں پر ہے : یہ گواہی دینی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي  معبود برحق نہیں ، اوریقینا محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے رسول ہیں ،  اورنماز قائم کرنا ، زکوۃ ادا کرنا ، حج کرنا ، اوررمضان المبارک کے روزے رکھنا )  صحیح بخاری حدیث نمبر ( 8 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 16 ) ۔</p>
<p>لھذا جوکوئي بھی روزہ نہ رکھے اس نے ارکان اسلام کاایک رکن ترک کیا ، اورکبیرہ گناہ  کا مرتکب ہوا ، بلکہ بعض سلف صالحین نے تو اس کافر اورمرتد قرار دیا ہے ، اللہ  تعالی اس سے بچائے ۔</p>
<p>ابویعلی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی مسند میں ابن عباس رضي اللہ تعالی عنہما سے  بیان کیا ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :</p>
<p>( اسلام کے کنڈے اوردین کی بنیاد تین چيزیں ہیں جس پردین اسلام کی اساس قائم ہے  جس نے بھی اس میں سے کوئي ایک کو ترک کیا وہ کافر ہے اوراس کا خون حلال ہے – وہ تین  اشیاء یہ ہیں – اس بات کی گواہی دینا کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہیں  ، اورفرضی نماز ، اوررمضان کے روزے ) ۔</p>
<p>علامہ ذھبی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کو صحیح قرار دیا ہے اورھيثمی رحمہ اللہ  تعالی نے مجمع الزوائد ( 1 / 48 ) اورامام منذری رحمہ اللہ تعالی نےالترغیب والترھیب  ( 805 &#8211; 1486 ) میں اسے حسن کہا ہے ، لیکن علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی نے السلسلۃ  الضعیفۃ ( 94 ) میں اسے ضعیف قرار دیا ہے ۔</p>
<p>امام ذھبی رحمہ اللہ تعالی اپنی کتاب الکبائر میں کہتے ہيں :</p>
<p>مومنوں کے ہاں یہ بات مقرر شدہ ہے کہ جس نے بھی بغیر شرعی عذر اورمرض کے رمضان  المبارک کا ایک بھی روزہ ترک کیا تو وہ زانی اورشرابی سے بھی زيادہ برا اورشریر ہے  ، بلکہ اس کے اسلام میں بھی شک کیا جاتا ہے اوراسے زندیق اورگمراہ شمار کرتے ہیں ۔  ا ھـ</p>
<p>روزہ ترک کرنے والے کی سزا اوروعید کے بارہ میں صحیح حدیث میں ہے کہ :</p>
<p>ابوامامۃ باھلی رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں میں نے رسول اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا :</p>
<p>( میں سویا ہوا تھا کہ میرے پاس دوشخص آئے اورمیرے بازو پکڑ کرمجھے سخت اوردشوار  گزارپہاڑ کے پاس لائے اورکہنے لگے : اس پر چڑھیے ، میں نے انہیں کہا کہ مجھ میں اس  پر چڑھنے کی طاقت نہیں ، وہ دونوں کہنے لگے ہم آپ کے لیے اسے آسان کردیں گے ، تومیں  اس پہاڑ پر چڑھ گیا جب اوپر پہنچا تووہاں شدید قسم کی آوازیں آرہی تھیں ، میں نے  کہا یہ آوازيں کیسی ہیں ؟</p>
<p>وہ کہنے لگے : یہ جہنمیوں کی آہ بکا ہے ، پھر وہ مجھے آگے لے گئے جہاں پر کچھ  لوگ کونچوں کے بل لٹک رہے تھے اوران کی باچھیں کٹی ہوئي تھیں ، اوران کی باچھوں سے  سے خون بہہ رہا تھا ، میں نے کہا یہ لوگ کون ہیں ؟</p>
<p>وہ کہنے لگے : یہ وہ لوگ ہیں جو افطاری سے قبل ہی اپنے روزے افطار کرلیا کرتے  تھے ) علامہ البانی رحمہ اللہ نے موارد الظآن ( 1509 ) میں اس حديث کو صحیح قرار  دیا ہے ۔</p>
<p>دیکھیں الکبائر ص ( 64 )</p>
<p>علامہ البانی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے :</p>
<p>یہ اس شخص کی سزا ہے جو روزہ رکھنے کے بعد افطاری سے قبل ہی عمدا یعنی جان بوجھ  کرروزہ افطار کردے ، تواب بتائيں کہ جو بالکل ہی روزہ نہ رکھے اس کی سزا کیا ہوگي ؟</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=417</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>اللہ تعالى نے روزے كا اجروثواب اپنے ساتھ كيوں مخصوص كيا ہے؟</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=415</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=415#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 06:01:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ماہ رمضان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=415</guid>
		<description><![CDATA[بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: &#8221; اللہ تعالى كا فرمان ہے: ابن آدم كا روزے كے علاوہ ہر عمل اس كے ليے ہے، كيونكہ روزہ ميرے ليے ہے، اور اس كا اجروثواب بھى ميں ہى دونگا &#8230; [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a rel="attachment wp-att-431" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=431"><img class="alignright size-full wp-image-431" title="HARAM_RAMADAN_A" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/HARAM_RAMADAN_A1.jpg" alt="" width="370" height="400" /></a>بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى  اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; اللہ تعالى كا فرمان ہے: ابن آدم  كا روزے كے علاوہ ہر عمل اس كے ليے ہے، كيونكہ روزہ ميرے ليے ہے، اور اس كا  اجروثواب بھى ميں ہى دونگا &#8230; &#8221;</p>
<p>صحيح بخارى حديث نمبر ( 1761 ) صحيح  مسلم حديث نمبر ( 1946 ).</p>
<p>اور جب سارے اعمال اللہ كے ليے ہيں،  اور ان كا اجروثواب بھى وہى ديتا ہے تو حديث قدسى ميں اللہ تعالى كے فرمان: &#8221; روزہ  ميرے ليے ہے، اور اس كا اجر و ثواب بھى ميں ہى دونگا &#8221; اللہ تعالى نے روزے كو اس كے  ليے مخصوص كيوں كيا ہے، اس ميں علماء كرام كا اختلاف ہے ؟</p>
<p>حافظ ابن حجر رحمہ اللہ نے اس حديث  كے معنى اور روزے كو اس فضيلت كے ساتھ مخصوص كرنے كے اسباب ميں اہل علم كى دس  توجيھات بيان كي ہيں ان ميں اہم درج ذيل ہيں:</p>
<p>1 &#8211; دوسرے اعمال كى طرح روزے ميں  رياء كارى نہيں ہو سكتى. قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں: جب سارے اعمال ميں رياء كارى  داخل ہو سكتى ہے، اور روزہ ايك ايسا فعل ہے جس پر اللہ كے علاوہ كوئى اور مطلع نہيں  ہو سكتا تو اللہ تعالى نے اسے اپنى جانب مضاف كيا، اور اسى ليے حديث ميں فرمايا:</p>
<p>&#8221; وہ ميرى بنا پر اپنى شہوت ترك كرتا  ہے &#8221;</p>
<p>اور ابن جوزى رحمہ اللہ كہتے ہيں:</p>
<p>سب عبادات كرتے وقت ظاہر ہو جاتى  ہيں، اور بہت ہى كم ايسى ہيں جن ميں رياء كا شائبہ نہ ہوتا ہو، يعنى ہو سكتا ہے اس  ميں رياء شامل ہو، ليكن روزہ ايسا عمل ہے جس ميں رياء كارى كا شائبہ بھى نہيں.</p>
<p>2 &#8211; &#8221; اور ميں ہى اس كا اجروثواب  دونگا &#8221;</p>
<p>اس سے مراد يہ ہے كہ اس كے اجروثواب  اور نيكيوں كى زيادتى كى مقدار كا علم صرف مجھے ہے، كسى اور كو نہيں.</p>
<p>قرطبى رحمہ اللہ كہتے ہيں:</p>
<p>اس كا معنى يہ ہے كہ: باقى اعمال كے  اجروثواب كى مقدار كا لوگوں كو بتا ديا گيا ہے، اور يہ كہ اس ميں دس سے سات سو تك  اضافہ كيا جا سكتا ہے، يا جتنا اللہ چاہے، ليكن روزہ ايك ايسا عمل ہے جس كا ثواب  اللہ تعالى بغير كسى مقدار كے دے گا، اس كى شہادت مسلم شريف كى درج ذيل روايت سے  ملتى ہے:</p>
<p>ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان  كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; اللہ تعالى كا فرمان ہے: ابن آدم  كے ہر عمل كى نيكياں دس سے ليكر سات تك ميں اضافہ كيا جاتا ہے، اللہ تعالى نے  فرمايا: ليكن روزہ نہيں، كيونكہ روزہ ميرے ليے ہے، اور اس كا اجروثواب بھى ميں ہى  دونگا &#8221;</p>
<p>صحيح مسلم حديث نمبر ( 1151 ).</p>
<p>يعنى اس كا اجروثواب ميں بغير حساب و  كتاب اور بغير مقدار كے دونگا، يہ بالكل اس فرمان كى طرح ہے:</p>
<p>﴿ صبر كرنے والوں كو بغير حساب كے  اجروثواب ديا جائيگا﴾.</p>
<p>3 &#8211; &#8221; روزہ ميرے ليے ہے &#8221;</p>
<p>اس فرمان كا معنى يہ ہے كہ ميرے ہاں  سب سے محبوب ترين اور مقدم عبادت يہى روزہ ہے.</p>
<p>ابن عبد البر كہتے ہيں: باقى سب  عبادات پر روزے كى فضيلت كے ليے &#8221; روزہ ميرے ليے ہے &#8221; كہنا ہى كافى قرار ديا.</p>
<p>اور امام نسائى رحمہ اللہ نے ابو  امامہ رضى اللہ تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  فرمايا:</p>
<p>&#8221; تم روزے ركھا كرو، كيونكہ اس كى  مثل كوئى اور عمل نہيں &#8221;</p>
<p>سنن نسائى حديث نمبر ( 2220 ) علامہ  البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح سنن نسائى ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.</p>
<p>4 &#8211; يہاں پر شرف اور عظمت كى اضافت  ہے، جسے بيت اللہ، كہا جاتا ہے، حالانكہ سارى مساجد تو اللہ كى ہيں ہى ليكن بيت  اللہ كى اضافت شرف و عظمت كى اضافت ہے.</p>
<p>زين بن منير كہتے ہيں:</p>
<p>اس طرح كے سياق ميں عمومى جگہ ميں  تخصيص سے عظمت و شرف كے علاوہ كچھ سمجھا نہيں جا سكتا.</p>
<p>اور شيخ ابن عثيمين رحمہ اللہ تعالى  كہتے ہيں:</p>
<p>&#8221; يہ عظيم الشان حديث كئى ايك وجوہات  كى بنا پر روزے كى فضيلت پر دلالت كرتى ہے:</p>
<p>پہلى وجہ:</p>
<p>سارے اعمال ميں سے روزہ اللہ تعالى  نے اپنے ليے مخصوص كيا ہے، اور يہ اس كے نزديك شرف اور روزے كى محبت كى وجہ ہے، اور  اس ميں اللہ تعالى كے ليے اظہار اخلاص كى بنا پر، كيونكہ روزہ بندے اور اس كے رب كے  درميان راز ہے اس پر اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور مطلع نہيں ہو سكتا، كيونكہ روزہ  دار كے ليے لوگوں سے خالى جگہ اور دور جا كر روزے كى بنا پر اللہ تعالى كى جانب سے  حرام كردہ اشياء استعمال كرنا ممكن ہے، ليكن اس كے باوجود وہ انہيں استعمال نہيں  كرتا، اس ليے كہ اسے علم ہے كہ اللہ عزوجل اس كى خلوت ميں بھى اسے ديكھ رہا ہے، اور  اس نے ان اشياء كا استعمال اس پر حرام كيا ہے، چنانچہ وہ اللہ تعالى كى سزا اور  عقاب كے ڈر، اور اس كے اجروثواب كے حصول كى اميد ركھتے ہوئے اسے ترك كر ديتا ہے.</p>
<p>تو اس بنا پر اللہ تعالى نے اس كے اس  اخلاص كا شكريہ ادا كرتے ہوئے سارے اعمال ميں سے صرف روزے كو ہى اپنے ساتھ مخصوص  كيا ہے، اور اسى ليے فرمايا:</p>
<p>&#8221; وہ ميرى وجہ سے اپنى شہوت اور  كھانا پينا ترك كرتا ہے &#8221;</p>
<p>اور اس خصوصيت كا فائدہ روز قيامت  ظاہر ہو گا، جيسا كہ سفيان بن عيينہ رحمہ اللہ كا قول ہے:</p>
<p>&#8221; روز قيامت جب اللہ تعالى اپنے بندے  كا حساب و كتاب كرےگا، اور اس كے ذمہ جو بھى ظلم ہونگے وہ اس كے سارے اعمال سے ادا  كيے جائينگے، ليكن روزہ سے نہيں، باقى جو بھى بچےگا وہ اللہ تعالى اپنے ذمہ لے لے  گا اور روزہ كى وجہ سے اسے جنت ميں داخل كرےگا.</p>
<p>دوسرى وجہ:</p>
<p>اللہ تعالى نے روزے كے متعلق فرمايا  ہے:</p>
<p>&#8221; اور اس كا اجروثواب بھى ميں ہى  دونگا &#8221;</p>
<p>اللہ تعالى نے اجروثواب كى اضافت  اپنى ذات كريم كى طرف كى ہے؛ كيونكہ سارے اعمال صالحہ كے اجروثواب ميں عدد كے حساب  كے اضافہ ہوتا ہے، ايك نيكى دس سے ليكر سات سواور اس سے بھى زيادہ تك بڑھتى ہيں،  ليكن روزے كا اجروثواب اللہ تعالى نے اپنى ذات كے ساتھ بغير كسى معدود عدد اور بغير  حساب و كتاب مخصوص كيا ہے.</p>
<p>اللہ سبحانہ وتعالى سب سے زيادہ كرم  كرنے والا اور بہت زيادہ جود و سخا كا مالك، اور عطيہ كرنے والا ہے، چنانچہ روزے كا  اجروثواب بغير حساب و كتاب اور عظيم ہے، روزہ اللہ تعالى كى اطاعت و فرمانبردارى پر  صبر كرنے، اور اللہ تعالى كى حرام كردہ اشياء سے اجتناب پر صبر كرنے،اور كھانے پينے  اور بدن كى كمزورى جيسى مقدر تكليفوں پر صبر كرنے كا نام روزہ ہے.</p>
<p>اس روزے ميں صبر كى تينوں قسميں جمع  ہيں، جس سے يہ ثابت ہوا كہ روزہ صبر كرنے والے ہى ركھتے ہيں.</p>
<p>اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:</p>
<p>﴿ اللہ تعالى يقينا صبر كرنے والوں  كو بے حساب و كتاب اجروثواب سے نوازے گا ﴾الزمر ( 10 ).</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=415</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>روزہ کی فضیلت اور انعامات</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=412</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=412#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 05:57:04 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ماہ رمضان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=412</guid>
		<description><![CDATA[اللہ سبحانہ وتعالی نے مسلمانوں پر رمضان المبارکے کے روزے رکھنے فرض کیے ہیں اورروزہ داروں کو اس پر اجر عظیم عطاکرنے کا وعدہ کیا ہے ، اس لیے کہ جب روزہ رکھنے کا عظیم اجرو ثواب تھا تواللہ تعالی نے بھی اس کی تعیین نہیں فرمائی بلکہ اس کے بارہ میں حدیث قدسی میں [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a rel="attachment wp-att-434" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=434"><img class="alignright size-full wp-image-434" title="ramadan-uk" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/ramadan-uk.jpg" alt="" width="425" height="285" /></a>اللہ سبحانہ وتعالی نے مسلمانوں پر رمضان المبارکے کے روزے رکھنے فرض کیے ہیں  اورروزہ داروں کو اس پر اجر عظیم عطاکرنے کا وعدہ کیا ہے ، اس لیے کہ جب روزہ رکھنے  کا عظیم اجرو ثواب تھا تواللہ تعالی نے بھی اس کی تعیین نہیں فرمائی بلکہ اس کے  بارہ میں حدیث قدسی میں اللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :</p>
<p>( سوائے روزے کے کیونکہ روزہ میرے لیے ہے اورمیں ہی اس کا اجر دونگا ) ۔</p>
<p>رمضان المبارک کے فضائل تو بہت زيادہ ہیں جن میں سے ایک یہ بھی ہے کہ اللہ تعالی  نے روزہ داروں کے لیے باب الریان تیار کیا ہے جس کا حدیث میں بھی ذکر ملتا ہے ۔</p>
<p>سہل رضی اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>( جنت میں ایک دروازہ ہے جسے ریان کہا جاتا ہےاوراس میں روز قیامت صرف روزہ دار  ہی داخل ہونگے ان کے علاوہ کوئي اورداخل نہيں ہوسکتا ، کہا جائے گا روزہ دار کہاں  ہیں ، تووہ کھڑے ہوں گے اس دروازے میں ان کے علاوہ کوئي اورداخل نہيں ہوگا جب یہ  داخل ہوجائيں گے تو وہ دروازہ بند کردیا جائے گا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1763 )  صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1947 ) ۔</p>
<p>ذیل میں ہم چند ایک وہ احادیث درج کرتے ہیں جن میں روزوں کا اجروثواب بیان کیا  گیا ہے :</p>
<p>ابوسلمہ ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ  علیہ وسلم نے فرمایا :</p>
<p>( جس نے بھی ایمان اوراجروثواب کی نیت سے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے  پچھلے تمام گناہ معاف کردیے جاتے ہیں ) صحیح بخاری کتاب الایمان ( 37 ) ۔</p>
<p>ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>( روزے کے علاوہ ابن آدم کے سب کے سب عمل اس کےلیے ہیں روزہ میرے لیے ہے اورمیں  ہی اس کا اجرو ثواب دونگا ، اور روزہ ڈھال ہے ، جب تم میں سے کوئي ایک روزہ سے ہو  تو وہ گندی زبان نہ استعمال کرے اورنہ ہی لڑائي جھگڑا کرے ۔</p>
<p>اگر اسے کوئي گالی نکالے یا لڑائي کرے تو وہ کہے کہ میں روزہ سے ہوں ، اس ذات کی  قسم جس کے ہاتھ میں محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی جان ہے روزہ دار کے منہ کی بو اللہ  تعالی کے ہاں کستوری سے بھی زيادہ اچھی اوربہتر ہے ، روزہ دار کے لیے خوشی کے دو  موقع ہیں ، جب وہ افطاری کرتا ہے تو اسے خوشی حاصل ہوتی ہے اورجب وہ اپنے رب سے ملے  گا تو اپنے روزہ کی وجہ سے خوش ہوگا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 1771 ) ۔</p>
<p>دوم :</p>
<p>یہ تومعلوم ہے کہ جنت کے بہت سے دروازے ہیں جیسا کہ اللہ تعالی نے بھی اپنے اس  فرمان میں خبر دی ہے کہ :</p>
<p>{ ہمیشہ رہنے والے باغات جہاں یہ خود جائیں گے اوران کے باپ دادوں اوربیویوں  اوراولادوں میں سے بھی جونیکوکار ہوں گے ، ان کے پاس فرشتے ہر ہر دروازے سے داخل  ہوں گے } الرعد ( 23 ) ۔</p>
<p>اورایک دوسرے مقام پراللہ تعالی نے کچھ اس طرح فرمایا :</p>
<p>{ اورجولوگ اپنےرب سے ڈرتے اورتقوی اختیارکرتے تھے ان کے گروہ گروہ جنت کی طرف  روانہ کیے جائيں گے یہاں تک کہ جب اس کے پاس آئيں گے اوردروازے کھول دیۓ جائيں گے  اوروہاں کے نگران ان سے کہيں گے تم پرسلام ہو ، تم خوش رہو تم اس میں ہمیشہ کے داخل  ہوجاؤ } الزمر ( 73 ) ۔</p>
<p>اوراحادیث صحیحہ میں یہ ثابت ہے کہ جنت کے آٹھ دروازے ہيں :</p>
<p>سہل بن سعدرضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>( جنت میں آٹھ دروازے ہیں ان میں ایک دروازہ ریان ہے جس میں روزہ داروں کے علاوہ  کوئي اور داخل نہيں ہوگا ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3017 ) ۔</p>
<p>عبادہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>( جس نے اس بات کی گواہی دی کہ اللہ تعالی کے علاوہ کوئي معبود برحق نہيں وہ  وحدہ لاشریک ہے ، اوربلاشبہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالی کے بندے اوراس کے  رسول ہیں ، اوریہ کہ عیسی علیہ السلام اللہ تعالی کے بندے اوراس کے رسول اوراس کا  کلمہ ہیں ، اسے مریم کی طرف القاء کیا اوراس کی طرف سے روح ہيں ، جنت اورآگ حق ہیں  ، جو بھی اس کی گواہی دے اللہ تعالی اسے جنت کے آٹھوں دروازوں میں سے جس میں سے  چاہے داخل کرے ، اس کے جوبھی عمل ہوں ) صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3180 ) صحیح مسلم  حدیث نمبر ( 41 ) ۔</p>
<p>اللہ تعالی کا اس امت پر فضل وکرم ہے کہ وہ رمضان المبارک میں جنت کے آٹھوں  دروازے کھول دیتا ہے نہ کہ ایک دروازہ ، لیکن جوشخص یہ کہتا ہے کہ جنت میں رضوان  نامی دروازہ ہے اسے اس کی دلیل دینی چاہیے ۔</p>
<p>ابوھریرہ رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہيں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے  فرمایا :</p>
<p>جب رمضان شروع ہوتا ہے توجنت کے دروازے کھول دیے جاتے ہیں اورجہنم کے دروازے بند  کردیے جاتےہیں اور شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔</p>
<p>صحیح بخاری حدیث نمبر ( 3035 ) صحیح مسلم حدیث نمبر ( 1739 )</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=412</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>روزہ میں شیاطین کا قید ہونا</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=409</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=409#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 05:52:09 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[ماہ رمضان]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=409</guid>
		<description><![CDATA[نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا : ( جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیۓ اور جہنم کے دروازے بند کر دیۓ جاتے ،اور شیطانوں کو زنجیریرں ڈال دی جاتی ہیں ) صحیح بخاری ( 3277 ) صحیح مسلم ( 1079 ) اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p>نبی صلی اللہ تعالی علیہ وسلم سے یہ ثابت ہے کہ آپ نے فرمایا :<a rel="attachment wp-att-424" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=424"><img class="alignright size-full wp-image-424" title="shetan" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/shetan.jpeg" alt="" width="194" height="259" /></a></p>
<p>( جب رمضان شروع ہوتا ہے تو جنت کے دروازے کھول دیۓ اور جہنم کے دروازے  بند کر دیۓ جاتے ،اور شیطانوں کو زنجیریرں ڈال دی جاتی ہیں ) صحیح بخاری (  3277 )  صحیح مسلم ( 1079 ) اور سنن نسائ میں یہ الفاظ ہیں ( وتغل فیہ مردۃ  الشیاطین ) کہ رمضان میں سرکش شیطانوں کو جکڑ دیا جاتا ہے ۔نسائ ( 2106 ) ۔</p>
<p>تو المردۃ مارد کی جمع ہے جس کا معنی شرپسندی کے لۓ خاص ہے ۔</p>
<p>تو اس کا معنی یہ نہیں کہ کلی طور پر شیطانوں کی تاثیر ہی ختم ہوجاتی ہے  ، بلکہ یہ تو اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ وہ رمضان میں کمزور پڑ جاتے اور  رمضان  کے علاوہ جو ان کی طاقت ہوتی ہے وہ رمضان میں نہیں رہتی ۔</p>
<p>اور یہ بھی احتمال ہے کہ صرف سرکش شیطان ہی جکڑے جاتے ہیں سب نہیں ۔</p>
<p>امام قرطبی رحمہ اللہ تعالی کا کہنا ہے کہ :</p>
<p>اگریہ سوال اٹھایا جاۓ کہ اگر رمضان میں شیطان جکڑ ديۓ جاتے ہیں تو پھر معاصی اور شروگناہ رمضان میں کیوں پایا جاتا ہے ؟</p>
<p>تو اس کا جواب یہ ہے کہ :</p>
<p>اس شر اورمعاصی کی ان روزہ داروں سے کمی ہوجاتی ہے روزہ کے آداب اور اس کی شروط پر عمل کیا جاۓ تو روزہ ان میں کمی لاتا ہے ۔</p>
<p>یاپھر یہ ہے کہ سب شیطان نہیں بلکہ ان میں صرف سرکش شیطان ہی جکڑے جاتے  ہیں جیسا کہ کئ ایک روایات میں وارد ہے جو کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے ۔</p>
<p>اور یاپھر اس سے شراور معاصی کی کمی مراد اور مقصود ہے ، اور یہ سب  محسوس کرتے ہیں کہ رمضان میں معاصی کاوقوع پہلے کی بنسبت کم ہوجاتا ہے ،  اور پھر یہ  بھی لازم نہیں کہ جب سب شیطانوں کو بھی جکڑ دیا جاۓ تو معاصی اور شر کا  وقوع نہ ہو ، کیونکہ اس کے شیطانوں کے علاوہ اور بھی کئ اسباب ہیں ، مثلا  نفوس خبیثہ  اور بری اور گندی عادات اور اسی طرح انسانوں میں سے شیطان ۔ اھ ۔ فتح  الباری</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=409</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نماز جمعہ كى فضيلت</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=407</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=407#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 05:50:10 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[نماز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=407</guid>
		<description><![CDATA[نماز جمعہ كى فضيلت ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بہت سارى احاديث مروى ہيں، جن ميں سے چند ايك يہ ہيں: 1 &#8211; امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: &#8221; نماز پنجگانہ، اور [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><a rel="attachment wp-att-437" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=437"><img class="alignright size-large wp-image-437" title="namaz" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/namaz-500x297.jpg" alt="" width="500" height="297" /></a>نماز جمعہ كى  فضيلت ميں نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم سے بہت سارى احاديث مروى ہيں، جن ميں سے چند  ايك يہ ہيں:</p>
<p>1 &#8211; امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے  ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  فرمايا:</p>
<p>&#8221; نماز پنجگانہ، اور جمعہ دوسرے جمعہ  تك جب تك كبيرہ گناہ سے اجتناب كيا جائے تو يہ كفارہ بن جاتا ہے &#8221;</p>
<p>صحيح مسلم حديث نمبر ( 233 ).</p>
<p>ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان  كرتے ہيں كہ نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; جس نے جمعہ كے روز غسل كيا اور  جمعہ كے ليے آيا اور اس كے مقدر ميں جتنى نماز لكھى تھى ادا كى اور خطبہ جمعہ كے  ختم ہونے تك خاموشى اختيار كى اور پھر امام كے ساتھ نماز جمعہ ادا كى تو اس جمعہ سے  دوسرے جمعہ اور اس سے تين روز زيادہ كے گناہ بخش ديے جاتے ہيں &#8221;</p>
<p>صحيح مسلم حديث نمبر ( 857 ).</p>
<p>امام نووى رحمہ اللہ تعالى كہتے ہيں:</p>
<p>علماء كرام كا كہنا ہے: دونوں جمعوں  اور تين يوم زيادہ كے گناہ بخش دينے كا معنى يہ ہے كہ ايك نيكى دس نيكيوں كى مثل  ہے، تو جمعہ كا روز جس ميں يہ بہترين افعال كيے گئے ايك نيكى كے معنى ميں ہوئے جو  اسے دس نيكيوں ميں بنا ديتى ہے.</p>
<p>اور ہمارے بعض اصحاب كا كہنا ہے كہ:  مراد يہ ہے كہ دونوں جمعوں ميں نماز جمعہ اور خطبہ كے ساتھ دوسرے جمعہ تك يہ سات  يوم بغير كسى زيادتى اورنقصان كے ہوئے، اوران كے ساتھ تين ملائيں تو يہ دس بن جاتے  ہيں. اھـ</p>
<p>2 &#8211; نماز جمعہ كے ليے جلد جانے ميں  اجرعظيم ہے:</p>
<p>بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ  تعالى عنہ سے بيان كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; جس نے جمعہ كے روز غسل جنابت كيا  اور پھر جمعہ كے ليے گيا تو گويا اس نے اونٹ قربان كيا، اور جو دوسرى گھڑى ميں گيا  گويا اس نے گائے قربان كى، اور جو تيسرى گھڑى ميں گيا گويا اس نے سينگوں والا مينڈھا  قربان كيا، اور جو چوتھى گھڑى ميں گيا گويا اس نے مرغى قربان كى، اور جو پانچويں  گھڑى ميں گيا گويا اس نے انڈا قربان كيا، اور جب امام آئے تو فرشتے ذكر سننے كے ليے  حاضر ہو جاتے ہيں &#8221;</p>
<p>صحيح بخارى حديث نمبر ( 841 ) صحيح  مسلم حديث نمبر ( 850 ).</p>
<p>3 &#8211; نماز جمعہ كے ليے چل كر جانے  والے كے ليے ہر قدم كے بدلے مسنون روزے اور قيام كا اجروثواب ہے:</p>
<p>اوس بن اوس ثقفى رضى اللہ تعالى عنہ  بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; جس نے جمعہ كے روز خود غسل كيا اور  غسل كروايا، اور صبح جلدى گيا اور آگے جا كر بيٹھا، اور قريب ہو كر خاموشى سے خطبہ  سنا، اس كے ليے ہر قدم كے بدلے مسنون روزے اور قيام كا ثواب ہے &#8221;</p>
<p>جامع ترمذى حديث نمبر ( 496 ) علامہ  البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 410 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=407</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>تارك نماز كے احكام</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=404</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=404#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 05:41:13 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[اردو سیکشن]]></category>
		<category><![CDATA[نماز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=404</guid>
		<description><![CDATA[تارك نماز كے احكام جان بوجھ كر عمدا نماز ترك كرنے والا مسلمان اگر نماز كى فرضيت كا انكار نہ كرے تو اس كے حكم ميں علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے. بعض علماء اسے كافر اور دائرہ اسلام سے خارج قرار ديتے ہيں، اور وہ مرتد شمار ہو گا، اس سے تين يوم [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong><a rel="attachment wp-att-441" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=441"><img class="alignright size-full wp-image-441" title="namaz-haiya-alasalaat" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/namaz-haiya-alasalaat.jpg" alt="" width="256" height="256" /></a>تارك نماز كے احكام</strong></p>
<p>جان بوجھ كر عمدا  نماز ترك كرنے والا مسلمان اگر نماز كى فرضيت كا انكار نہ كرے تو اس كے حكم ميں  علماء كرام كا اختلاف پايا جاتا ہے.</p>
<p>بعض علماء اسے كافر اور دائرہ اسلام  سے خارج قرار ديتے ہيں، اور وہ مرتد شمار ہو گا، اس سے تين يوم تك توبہ كرنے كا كہا  جائيگا، اگر تو تين دنوں ميں اس نے توبہ كر لى تو بہتر وگرنہ مرتد ہونے كى بنا پر  اسے قتل كر ديا جائيگا، نہ تو اس كى نماز جنازہ ادا كى جائيگى، اور نہ ہى اسے  مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن كيا جائيگا، اور نہ زندہ اور مردہ حالت ميں اس پر سلام  كيا جائيگا، اور اس كى بخشش اور اس پر رحمت كى دعا بھى نہيں كى جائيگى نہ وہ خود  وارث بن سكتا ہے، اور نہ ہى اس كے مال كا وارث بنا جائيگا، بلكہ اس كا مال مسلمانوں  كے بيت المال ميں ركھا جائيگا، چاہے بے نمازوں كى كثرت ہو يا قلت، حكم ايك ہى ہے ان  كى قلت اور كثرت سے حكم ميں كوئى تبديلى نہيں ہو گى.</p>
<p>زيادہ صحيح اور راجح قول يہى ہے،  كيونكہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا فرمان ہے:</p>
<p>&#8221; ہمارے اور ان كے درميان عہد نماز  ہے، چنانچہ جس نے بھى نماز ترك كى اس نے كفر كيا &#8221;</p>
<p>اسے امام احمد نے مسند احمد ميں اور  اہل سنن نے صحيح سند كے ساتھ بيان كيا ہے.</p>
<p>اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا  يہ بھى فرمان ہے:</p>
<p>&#8221; آدمى اور كفر و شرك كے درميان نماز  كا ترك كرنا ہے &#8221;</p>
<p>اسے امام مسلم رحمہ اللہ تعالى نے  صحيح مسلم ميں اس موضوع كى دوسرى احاديث كے ساتھ روايت كيا ہے.</p>
<p>اور جمہور علماء كرام كا كہنا ہے كہ  اگر وہ نماز كى فرضيت كا انكار كرے تو وہ كافر ہے اور دين اسلام سے مرتد ہے، اس كا  حكم وہى ہے جو پہلے قول ميں تفصيل كے ساتھ بيان ہوا ہے.</p>
<p>ليكن اگر وہ اس كى فرضيت كا انكار  نہيں كرتا بلكہ وہ سستى اور كاہلى كى بنا پر نماز ترك كرتا ہے تو وہ كبيرہ گناہ كا  مرتكب ٹھرے گا، ليكن دائرہ اسلام سے خارج نہيں ہو گا، اسے توبہ كرنے كے ليے تين دن  كى مہلت دى جائيگى، اگر تو وہ توبہ كر لے الحمد للہ وگرنہ اسے بطور حد قبل كيا  جائيگا كفر كى بنا پر نہيں.</p>
<p>تو اس بنا پر اسے غسل بھى ديا  جائيگا، اور كفن بھى اور اس كى نماز جنازہ بھى پڑھائى جائيگى، اور اس كے ليے بخشش  اور مغفرت و رحمت كى دعاء بھى كى جائيگى، اور مسلمانوں كے قبرستان ميں دفن بھى كيا  جائيگا، اور وہ وراث بھى بنے گا اور اس كى وراثت بھى تقسيم ہو گى، اجمالى طور پر اس  پر زندگى اور موت دونوں صورتوں ميں گنہگار مسلمان كا حكم جارى كيا جائيگا.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=404</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>نماز کی اہمیت</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=402</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=402#comments</comments>
		<pubDate>Sun, 29 Aug 2010 05:36:03 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[نماز]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=402</guid>
		<description><![CDATA[نماز کی اہمیت يہ دين كا ركن اور ستون ہے جس كے بغير دين اسلام مكمل نہيں ہوتا حديث ميں ہے جسے معاذ بن جبل رضى اللہ تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا: &#8221; كيا ميں تجھے سارے معاملہ ( يعنى دين ) كى چوٹى اور ستون [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>نماز کی اہمیت</strong></p>
<p><a rel="attachment wp-att-444" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=444"><img class="alignright size-medium wp-image-444" title="namaz1" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/namaz1-500x297.jpg" alt="" width="500" height="297" /></a>يہ دين كا ركن اور ستون ہے جس كے  بغير دين اسلام مكمل نہيں ہوتا</p>
<p>حديث ميں ہے جسے معاذ بن جبل رضى اللہ  تعالى عنہ بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; كيا ميں تجھے سارے معاملہ ( يعنى  دين ) كى چوٹى اور ستون اور اس كى كوہاں كى خبر نہ دوں ؟</p>
<p>تو ميں نے عرض كيا اے اللہ تعالى كے  رسول صلى اللہ عليہ وسلم كيوں نہيں.</p>
<p>تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  فرمايا:</p>
<p>&#8221; دين اسلام كى چوٹى اور اس كا ستون  نماز ہے، اور اس كى كوہاں جھاد ہے ..&#8221;</p>
<p>سنن ترمذى حديث نمبر ( 2616 ) علامہ  البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح ترمذى حديث نمبر ( 2110 ) ميں اسے صحيح قرار ديا  ہے.</p>
<p>دوم:</p>
<p>اس كا مرتبہ كلمہ شھادت كے بعد آتا  ہے تا كہ يہ اعتقاد كے صحيح اور سليم ہونے كى دليل ہو، اور دل ميں جو كچھ جاگزيں ہوا  ہے اس كى دليل اور تصديق ہو.</p>
<p>رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كا  فرمان ہے:</p>
<p>&#8221; اسلام كى بيناد پانچ چيزوں پر ہے،  اس بات كى گواہى دينا كہ اللہ تعالى كے علاوہ كوئى اور معبود نہيں، اور يقينا محمد  صلى اللہ عليہ وسلم اس كے بندے اور رسول ہيں، اور نماز قائم كرنا، اور زكاۃ ادا  كرنا، اور بيت اللہ كا حج كرنا، اور رمضان المبارك كے روزے ركھنا &#8221;</p>
<p>صحيح بخارى حديث نمبر ( 8 ) صحيح  مسلم حديث نمبر ( 16 ).</p>
<p>اور نماز قائم كرنے كا مطلب يہ ہے  كہ: اسے مكمل طور پر اس كے افعال اور اقوال كے ساتھ اس كے معين كردہ اوقات ميں ادا  كيا جائے جيسا كہ قرآن مجيد ميں وارد ہے.</p>
<p>اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:</p>
<p>﴿يقينا مومنوں پر نماز وقت مقررہ پر  فرض كى گئى ہے﴾.</p>
<p>يعنى محدود اور معين وقت ميں.</p>
<p>سوم:</p>
<p>نماز كى فرضيت كے مقام اور مرتبہ كى  بنا پر نماز كو باقى سارى عبادات ميں ايك خاص مقام و مرتبہ حاصل ہے&#8230;</p>
<p>نماز ايسى عبادت ہے جسے كوئى فرشتہ  لے كر زمين پر نازل نہيں ہوا ليكن اللہ سبحانہ وتعالى نے چاہا كہ وہ اپنے رسول محمد  صلى اللہ عليہ وسلم كو معراج كى نمعت سے نوازا اور خود بغير كسى واسطہ كے نماز كى  فرضيت كے ساتھ مخاطب ہوا، اور اسلام كى سارى عبادات ميں سے نماز ہى ايك واحد عبادت  ہے جسے يہ خصوصيت حاصل ہے.</p>
<p>نماز معراج والى رات فرض تقريبا ہجرت  سے تين برس قبل فرض كى گئى.</p>
<p>اور پھر پچاس نمازيں فرض ہوئى تھيں،  ليكن بعد ميں تخفيف كر كے اسے پانچ نمازوں ميں بدل ليا گيا، اور ثواب پچاس نمازوں  كا ہى باقى ركھا گيا، جو كہ نماز كے ساتھ اللہ تعالى كى محبت كى دليل اور اس كے  عظيم مقام و مرتبہ كى دليل ہے.</p>
<p>چہارم:</p>
<p>نماز كے ساتھ اللہ تعالى خطاؤں اور  غلطيوں كو معاف فرماتا ہے:</p>
<p>بخارى اور مسلم نے ابو ہريرہ رضى اللہ  تعالى عنہ سے روايت كيا ہے كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>اور ابو بكر رضى اللہ تعالى عنہ كى  حديث ميں ہے كہ:</p>
<p>انہوں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ  وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:</p>
<p>&#8221; مجھے يہ بتاؤ كہ اگر تم ميں سے كسى  كے گھر كے دروازے كے سامنے نہر ہو اور وہ اس ميں پانچ بار غسل كرے تو كيا اس كے بدن  پر كوئى ميل كچيل باقى رہے گى ؟</p>
<p>تو صحابہ كرام نے عرض كيا: اس كے بدن  پر كوئى ميل كچيل باقى نہيں رہے گى.</p>
<p>تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  فرمايا:</p>
<p>&#8221; نماز پنجگانہ كى يہى مثال ہے، اللہ  تعالى اس كے ساتھ گناہوں كو مٹاتا ہے&#8221;</p>
<p>&#8221; مجھے يہ بتاؤ كہ تمہارے دروازے كے  سامنے نہر ہو اور اس ميں ہر روز پانچ بار غسل كرتا ہو تو كيا اس كے بدن كوئى ميل  باقى رہے گى ؟</p>
<p>تو صحابہ نے عرض كيا: اس كے بدن پر  كوئى ميل كچيل باقى نہيں رہے گى .</p>
<p>تو رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے  فرمايا:</p>
<p>&#8221; تو نماز پنجگانہ كى مثال بھى اسى  طرح ہے، اللہ تعالى اس كے ساتھ غلطيوں كو مٹاتا ہے&#8221;</p>
<p>صحيح بخارى حديث نمبر ( 528 ) صحيح  مسلم حديث نمبر ( 667 ).</p>
<p>پنجم:</p>
<p>نماز دين كى گم ہونے والى آخرى چيز  ہے، اگر يہ ضائع ہو جائے تو سارا دين ہى ضائع ہو جاتا ہے&#8230;</p>
<p>جابر بن عبد اللہ رضى اللہ تعالى  عنہما بيان كرتے ہيں كہ رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے فرمايا:</p>
<p>&#8221; آدمى اور شرك و كفر كے مابين نماز  كا ترك كرنا ہے&#8221;</p>
<p>صحيح مسلم حديث نمبر ( 82 ).</p>
<p>اس ليے مسلمان كو چاہيےكہ وہ نماز اس  كے اوقات ميں ادا كرنے كى حرص ركھے، اور نماز سے سستى اور كاہلى نہ كرے.</p>
<p>اللہ سبحانہ وتعالى كا فرمان ہے:</p>
<p>﴿ان نمازيوں كے ہلاكت ہے جو نماز سے  سستى كرتے ہيں﴾ الماعون</p>
<p>اور اللہ تعالى نے نماز ضائع كرنے  والے كو وعيد سناتے ہوئے فرمايا:</p>
<p>﴿تو ان كے بعد ايسے ناخلف پيدا ہوئے  جنہوں نے نماز ضائع كر دى اور شہوات كے پيچھے چل نكلے، عنقريب انہيں جہنم ميں ڈالا  جائے گا﴾.</p>
<p>ششم:</p>
<p>روز قيامت نماز كے بارہ ميں سب سے  پہلے حساب ہو گا&#8230;.</p>
<p>ابو ہريرہ رضى اللہ تعالى عنہ بيان  كرتے ہيں كہ ميں نے رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم كو يہ فرماتے ہوئے سنا:</p>
<p>&#8221; روز قيامت بندے كے اعمال ميں سے سب  سے پہلے اس كى نماز كا حساب و كتاب ہو گا، اگر تو صحيح ہوئى تو وہ كامياب و كامران  ہے، اور اس نے نجات حاصل كر لى، اور اگر يہ فاسد ہوئى تو وہ ناكام اور خائب و خاسر  ہو گا، اور اگر اس كے فرضوں ميں كچھ كمى ہوئى تو رب ذوالجلال فرمائے گا ديكھو كيا  ميرے بندے كے نوافل ہيں، تو فرضوں كى كمى ان نوافل سے پورى كى جائيگى، پھر اس پر  سارے عمل اس پر ہونگے&#8221;</p>
<p>سنن نسائى حديث نمبر ( 465 ) سنن  ترمذى حديث نمبر ( 413 ) علامہ البانى رحمہ اللہ تعالى نے صحيح الجامع حديث نمبر (  2573 ) ميں اسے صحيح قرار ديا ہے.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=402</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>A Ramadhan Checklist</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=394</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=394#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Aug 2010 15:53:26 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articals]]></category>
		<category><![CDATA[Ramadan]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=394</guid>
		<description><![CDATA[A Ramadhan Checklist 1. Ask Allah to enable you to reach Ramadan and to get the most out of it as the Salaf used to do. 2. Intend to fast every day with Iman and pure intention seeking the reward from Allah alone. The Prophet peace be upon him said, &#8220;Whoever fasts in Ramadan with [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>A Ramadhan Checklist</strong></p>
<p><a rel="attachment wp-att-399" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=399"><img class="alignright size-full wp-image-399" title="cl" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/cl.jpg" alt="" width="425" height="282" /></a>1. Ask Allah to enable you to reach Ramadan and to get the most out of it as the Salaf used to do.</p>
<p>2. Intend to fast every day with Iman and pure intention seeking the reward from Allah alone. The Prophet peace be upon him said, &#8220;Whoever fasts in Ramadan with Iman and seeking reward (from Allah) his past sins will be forgiven&#8221;. (Bukhari)</p>
<p>3. Read the whole Qur&#8217;an at least once as the Prophet peace be upon him did.</p>
<p>4. Have Suhoor as the Prophet peace be upon him said, &#8220;Have Suhoor because it is blessed&#8221;.</p>
<p>5. Make Du&#8217;a during the fast because the Prophet peace be upon him said that three people&#8217;s supplication is not rejected one of them is the fasting person. Ask for the good of this life and the next for yourself, your family and Muslims in general.</p>
<p>6. Make Dua before opening the fast. The Prophet peace be upon him said, &#8220;The fasting person has a supplication that is answered when he opens his fast&#8221;.</p>
<p>7. Give Sadaqah and be good to people. The Prophet peace be upon him was the most generous of people and he was most generous in Ramadan.</p>
<p>8. Avoid anything that diminishes the fast such as, lying, backbiting, cheating, getting angry. The Prophet peace be upon him said &#8220;Whoever does not give up false statements (i.e. telling lies), and evil deeds, and speaking bad words to others, Allah is not in need of his (fasting) leaving his food and drink.&#8221; [Bukhari] 9. Do not eat too much after Iftar.</p>
<p>10. Ask for forgiveness since this is the month Allah frees people from the fire.</p>
<p>11. Pray At-Tarawih with Khushoo. If you pray in the Masjid complete the Salah with the Imam. If you pray at home prolong the Salah as long as you can. The Prophet peace be upon him said, &#8220;Whoever prays during Ramadan with Iman and seeking reward (from Allah) his past sins will be forgiven&#8221;.</p>
<p>12. Feed the poor and invite others for Iftar. The Prophet peace be upon him said, &#8220;Whoever gives Iftar to someone fasting he will have the same reward without decreasing the reward of the person fasting&#8221;.</p>
<p>13. Try harder the last ten nights especially the odd nights. The prophet would strive in Ramadan more than he would in any other month and more so in the last ten days.</p>
<p>14. Say this Dua in the nights that Laitul-Qadr is likely to fall on: Allhumma innaka afuwun tuhibbul-afwa fa&#8217;fu anni (O Allah you are Forgiving and love forgiveness so forgive me).</p>
<p>15. Ask Allah to accept all your good actions during this month.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=394</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>The fasting person has two occasions for joy</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=391</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=391#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Aug 2010 15:46:36 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articals]]></category>
		<category><![CDATA[Ramadan]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=391</guid>
		<description><![CDATA[The fasting person has two occasions for joy Abû Hurayrah relates that the Prophet (peace be upon him) said: “Allah says: ‘Every deed of the child of Adam is for himself, except for fasting. It is for Me and I shall reward it.’ Fasting is a shield, so if it is a day of fasting [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>The fasting person has two occasions for joy</strong></p>
<p><a rel="attachment wp-att-450" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=450"><img class="alignright size-medium wp-image-450" title="ramadan20kareem" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/ramadan20kareem-500x414.jpg" alt="" width="500" height="414" /></a>Abû Hurayrah relates that the Prophet (peace be upon him) said: “Allah says: ‘Every deed of the child of Adam is for himself, except for fasting. It is for Me and I shall reward it.’ Fasting is a shield, so if it is a day of fasting for any one of you, then he should engage in no obscenity or shouting. If anyone belittles him or fights with him, he should just say ‘I am a person who is fasting’. I swear by Him in whose hand is Muhammad’s soul, the smell of the fasting person’s breath is sweeter to Allah on the Day of Judgment than that of musk. The fasting person has two occasions for joy, one when he breaks his fast because of his breaking it and the other when he meets his Lord because of the reward for his fast.” [Sahîh al-Bukhârî (7492) and Sahîh Muslim (1151) with the wording being that of Muslim]</p>
<p>The Prophet (peace be upon him) says in this hadith: “The fasting person has two occasions for joy…” This does not mean that the fasting person experiences no other joys aside from these two. It is just that these two particular occasions of joy are exclusive to a fasting person and are experienced by no one else.</p>
<p>The fasting person experiences the first occasion of joy when he eats and drinks after a full day of self-restraint, patience, and obedience seeking Allah’s reward.</p>
<p>He experiences the second occasion of joy when he meets his Lord after a full lifetime of fasting and seeking Allah’s reward every time the month of Ramadan called upon him as an honored guest.</p>
<p>The first of these two joys comes every night in Ramadan when the Sun sets and the fasting person stretches out his hand to eat a sweet date or take a sip of cool, refreshing water to relieve his hunger and thirst.</p>
<p>And why should he not feel joy at this moment? He had expended every effort throughout the day only for his Lord’s pleasure and forbade himself his share of food and drink, seeking Allah’s eternal and everlasting reward.</p>
<p>It is the joy of having control over the demands of one’s own body and ascendancy over the everyday habits of life. It is, in this way, a spiritual joy, an exuberance that comes with the appearance of every Ramadan and with the exercise of goodly patience.</p>
<p>The happiness of a fasting person when he breaks his fast is not merely because he assuages his hunger and thirst, for even the lowliest of animals share in such pleasures. Instead, it is the joy of triumph over Satan and over one’s own passions and basest desires.</p>
<p>It is also the joy of having successfully carried out the command of our Lord. When He asked us to abandon our food, we abandoned it. When He called upon us to abstain from quenching our thirsts, we abstained from it.</p>
<p>We had hearkened to Allah’s words: “The month of Ramadan in which the Qur’ân was revealed as a guidance for humanity, clear proofs of guidance, and a criterion. So whoever among you witnesses the month, let him fast it.” [Sûrah al-Baqarah: 185]</p>
<p>As for the second occasion of joy, it is an experience like no other, reminiscent of the joy felt when meeting someone who is most beloved. It is the meeting of the fasting person with his Lord who had helped him to carry out his fast and had blessed him with success in doing so, and who had promised him for his fast the best of rewards that He has kept in store for him.</p>
<p>This is an experience of joy by which all the pains and sorrows of life are forever forgotten. It is an overwhelming joy. On that day, the person who had fasted during his worldly life will be entitled to rejoice in it. However, this will be the case only as long as he had restrained his hands from sinful deeds and his tongue from evil words and thereby safeguarded his fasts from becoming bereft of blessings.</p>
<p>Those who are barred from the blessings of their fasts are indeed doubly deprived. Their fasts deprived them of their food and drink, and then their conduct deprived them of the blessings and rewards. This is because they had violated the sanctity of the month of Ramadan with the ignominy of their words and the wickedness of their deeds.</p>
<p>Therefore, every fasting person needs to be aware of what the fast really means. He needs to fully appreciate its great and noble purposes. He must prepare himself mentally to safeguard his fast from every evil word and deed, so he can be sure to experience both of the joys that are unique to the fast. He should, likewise, let all the goodness that Allah has prepared for those who fast with sincerity be a means for him to restrain his eyes from casting their gaze upon that which is unlawful.</p>
<p>If, instead, a person opts not to lower his gaze from the foul images on the television screen and the forbidden sights of the street; if he chooses to indulge his ears in listening to provocative music and indecent songs; if, above all that, he allows his tongue to speak falsely and injuriously, then he should know that the only pleasure he shall experience when he breaks his fast is that felt by the cattle when they are set out to pasture or by the lion when it catches its prey.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=391</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
		<item>
		<title>The Last Ten Days of Ramadan</title>
		<link>http://iqrapk.com/?p=387</link>
		<comments>http://iqrapk.com/?p=387#comments</comments>
		<pubDate>Sat, 28 Aug 2010 15:41:32 +0000</pubDate>
		<dc:creator>admin</dc:creator>
				<category><![CDATA[Articals]]></category>
		<category><![CDATA[Ramadan]]></category>

		<guid isPermaLink="false">http://iqrapk.com/?p=387</guid>
		<description><![CDATA[The Last Ten Days of  ramadan Here we are at one of the last stations, and it is time to work hard and strive. We are in the phases for &#8220;hurry&#8221; and &#8220;race&#8221; in order to make the best out of these special times. Do your best for the reward is magnificent and the frit [...]]]></description>
			<content:encoded><![CDATA[<p><strong>The Last Ten Days</strong> <strong>of  ramadan</strong></p>
<p><a rel="attachment wp-att-388" href="http://iqrapk.com/?attachment_id=388"><img class="alignright size-full wp-image-388" title="1467666797_25f2b82790" src="http://iqrapk.com/wp-content/uploads/2010/08/1467666797_25f2b82790.jpg" alt="" width="500" height="375" /></a>Here we are at one of the last stations, and it is time to work hard and strive. We are in the phases for &#8220;hurry&#8221; and &#8220;race&#8221; in order to make the best out of these special times. Do your best for the reward is magnificent and the frit deserves the hard work in order to obtain it. This fruit is Laylat al-Qadr.</p>
<p>Allah (SWT[1]) says what can be translated as, &#8220;And what will make you know what the night of Al-Qadr (Decree) is? The night of Al-Qadr (Decree) is better than a thousand months (i.e. worshipping Allah in that night is better than worshipping Him a thousand months, (i.e. 83 years and 4 months). Therein descend the angels and the Ruh [Jibrael (Gabriel)] by Allah&#8217;s Permission with all Decrees. Peace! (All that night, there is Peace and Goodness from Allah to His believing slaves) until the appearance of dawn.&#8221; [Al-Qadr 97, 2-5], {وَمَا أَدْرَاكَ مَا لَيْلَةُ الْقَدْرِ ﴿٢﴾ لَيْلَةُ الْقَدْرِ خَيْرٌ مِّنْ أَلْفِ شَهْرٍ ﴿٣﴾ تَنَزَّلُ الْمَلَائِكَةُ وَالرُّوحُ فِيهَا بِإِذْنِ رَبِّهِم مِّن كُلِّ أَمْرٍ ﴿٤﴾ سَلَامٌ هِيَ حَتَّىٰ مَطْلَعِ الْفَجْرِ}, Transliteration: Wa Mā &#8216;Adrāka Mā Laylatu Al-Qadri, Laylatu Al-Qadri Khayrun Min &#8216;Alfi Shahrin, Tanazzalu Al-Malā&#8217;ikatu Wa Ar-Rūĥu Fīhā Bi&#8217;idhni Rabbihim Min Kulli &#8216;Amrin, Salāmun Hiya Ĥatt&amp;aacute; Maţla`i Al-Fajri.</p>
<p>Abu-Musa al-Ash&#8217;ar (RA[2]) strived to a great extent before his death. He was told, &#8220;Why don&#8217;t you take it easy on yourself a little?&#8221; He replied, &#8220;When horses are near the end line, they give their best.&#8221; Hence, this great companion worked really hard and gave it all he has.</p>
<p>The Prophet (SAWS) used to pray during the night, wake up his family and strive harder than ever before during the last ten days of Ramadan. [Agreed Upon]</p>
<p>Ayesha (RA) said, &#8220;The Prophet (SAWS) worked harder during he last ten days than in any other time.&#8221; [Reported by Muslim]</p>
<p>Advice for the ten days:</p>
<p>1- No sleep in the last ten days: The Prophet (SAWS) used to stay awake on those nights through night prayer.</p>
<p>2- Encourage your family to enjoin you in good deeds: In a hadith reported by Abi Dhir (RA), the Prophet (SAWS) lead them in prayer on the nights of the 23rd and 25th mentioned that he called his family and wives to the night of the twenty seventh especially. This proves that he made sure to wake them up to pray during a night suspected of being Laylat al-Qadr.</p>
<p>Sufian al-Thawry said: &#8220;The most favorite to me and closest to my heart when the last ten days are near is to pray at night and strive in it, to wake my family and children for prayer (if they are able to).&#8221;</p>
<p>3- Increase supplication on this night: The Prophet (SAWS) asked the mother of the believers Ayesha (RA) to make supplication on those nights.</p>
<p>Ayesha (RA) said to the Prophet (SAWS), &#8220;What do I say if it is indeed Laylat al-Qadr?&#8221;</p>
<p>The Prophet (SAWS) said: «Say, ‘O Allah, You are oft-forgiving and love to forgive so forgive me».</p>
<p>Sufian al-Thawry said: &#8220;Supplication on such a night is more preferable to me than prayer. Increasing supplications is better than prayer in which one does not do excessive supplication. And if one reads then makes supplication, then that is fine too.&#8221;</p>
<p>4- Purification of what is seen and what is hidden: Pious worshippers used to make ghusl (complete ablution) during each of the lat ten nights. There are many who also used to wear cologne on nights which they hoped to be Laylat al-Qadr. For indeed one needs to be in their best state on the outside and the inside, when supplicating to the Lord of the worlds.</p>
<p>5- Its night is like its morning, don&#8217;t forget that. Many scholars stress the fact that the benefits of the morning of that day are just as great as those of its night time. It is important to note the need to continue good deeds and worship during the day as well.</p>
<p>The great scholar Imam as-Shafi&#8217;e said: &#8220;I prefer to strive during its day than its night. This necessitates doing the same through out the last ten days, striving equally during the day and at night.&#8221;</p>
<p>6- Among the most honored acts of worship is to devote your self completely to Allah&#8230;</p>
<p>Allah said in what can be translated as, &#8220;And remember the Name of your Lord and devote yourself to Him with a complete devotion. (He Alone is) the Lord of the east and the west, La ilaha illa Huwa (none has the right to be worshipped but He). So take Him Alone as Wakil (Disposer of your affairs).&#8221; [al-Muzammel: 8-9], {وَاذْكُرِ اسْمَ رَبِّكَ وَتَبَتَّلْ إِلَيْهِ تَبْتِيلًا ﴿٨﴾ رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا}, Transliteration: Wa Adhkur Asma Rabbika Wa Tabattal &#8216;Ilayhi Tabtīlāan, Rabbu Al-Mashriqi Wa Al-Maghribi Lā &#8216;Ilāha &#8216;Illā Huwa Fa Attakhidh/hu Wa Kīlāan.</p>
<p>So dedicate your heart wholly to Allah (SWT) with no arguments, discussion, idle talk, unnecessary intermingling. Turn off your phone, let go of your worries and forget your concerns. Dedicate yourself completely to Allah and enjoy worshipping and praying to him.</p>
<p>7- Sense your heart and watch your intention, for a person&#8217;s intention is better than his/her deeds. So make your intention and dedicate yourself to Allah.</p>
<p>8- Remember that your status will be set according to how hard you strive. Do not let a door for good deeds go closed. Commit yourself to the different types of obedience to Allah in order to make sure you do not get tired or bored of any particular one.</p>
<p>9- You must strive hard while being patient. It has been said that whoever wants to always be committee to the good deeds must wait for a long while.</p>
<p>10- Speak less. Count your words per day and at night. Whoever speaks little is more careful of their sayings and actions.</p>
<p>11- Remember that these are the time of races; so do not settle for coming last. Someone once said, &#8220;If a man hears of another who is more obedient, passing away out of grief is not too much.&#8221;</p>
<p>Would you settle of being deprived of this?, Would you accept that other people win the forgiveness, pardon from the hell fire while their good deeds are multiplying?, Meanwhile, you are burdened by your sins. Do not accept this. Do not settle down for this, instead opt for racing towards Allah&#8217;s mercy and forgiveness.</p>
<p>12- Have faith in Allah. If you miss something, turn around and try to make up for it. If you have true faith in Allah, you will indeed love Him dearly. Oh Lord, we ask you to bless us with Your love and the love of those who love You. We ask you to bless us with deeds which bring us close to Your love.</p>
<p>13- Perform some of your acts of worship in secret, with not witness to is but Allah. This will bring you closer to true sincerity.</p>
<p>The Prophet (SAWS) said, «The voluntary prayer of a man where people can not see him is equivalent to twenty give of public prayers» [Reported by Ya'la and reviewed by al-Albany].</p>
<p>14- Combine the quantity and quality&#8230;. We want magnificent deeds the like of which you have never accomplished before in your life. This year, you will accomplish them&#8230; Yes, indeed you will. This is the true sign of your sincerity in seeking the pleasure of Allah and His bountiful blessings. You will never settle for anything less than that. You must do the best you can.</p>
]]></content:encoded>
			<wfw:commentRss>http://iqrapk.com/?feed=rss2&amp;p=387</wfw:commentRss>
		<slash:comments>0</slash:comments>
		</item>
	</channel>
</rss>
